سارے لمحوں نے ہی عجلت میں گزر جانا ہے
میں نے مرنے سے بہت پہلے ہی مر جانا ہے
تو مجھے لاکھ سمیٹے گا مگر میں نے بھی
تیرے ہاتھوں میں ہی اک روز بکھر جانا ہے
زندگی اپنی رفاقت سے مجھے کر آزاد
اور اجازت مجھے دے دے، مجھے گھر جانا ہے
تیرے کوچے کی کسی سمت ہی بیٹھے ہوں گے
ہم اسیروں نے بھلا اور کدھر جانا ہے
اے مرے دوست مذاقاً بھی نہ جانے کا تو کہہ
خوف زادے نے اسی بات سے ڈر جانا ہے
میں نے بس ایک خطا اور بشر کرنی ہے
اور پھر چھوڑ کے سب کام سدھر جانا ہے
بشر معروف
