5 کمانڈرز انچیف کے ساتھ کام کا تجربہ، مختلف اعزازات کے ساتھ گولڈن جوبلی سرٹیفکیٹ اور یونین سروس ایوارڈ وصول کیے، ریٹائرمنٹ کے بعد بھی امارات میں ہی قیام کا فیصلہ
راس الخیمہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 ستمبر 2026ء) متحدہ عرب امارات میں راس الخیمہ پولیس میں مسلسل 41 برس تک شاندار اور مثالی خدمات انجام دینے والے 60 سالہ پاکستانی شہری منیر حسین منیر اپنے عہدے سے ریٹائر ہو گئے۔ گلف نیوز کے مطابق 19 سال کی عمر میں روزگار کی تلاش میں متحدہ عرب امارات پہنچنے والے منیر حسین نے 1986ء میں وزارتِ داخلہ میں شمولیت اختیار کی تھی اور اپنی ملازمت کا پورا دورانیہ راس الخیمہ پولیس کے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں یونیفارم سپروائزر اور فورمین کے طور پر گزارا، چار دہائیوں پر محیط اس طویل ملازت کے دوران انہوں نے پانچ مختلف کمانڈرز انچیف کی زیرِ قیادت کام کیا اور پولیسنگ کے نظام کو روایتی مینوئل انداز سے جدید تکنیکی اور ڈیجیٹل دور میں داخل ہوتے دیکھا۔
منیر حسین نے اس حوالے سے اپنے ایک انٹرویو میں جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب یو اے ای ہی میرا اصل وطن اور گھر ہے جہاں میں نے اپنی زندگی کی چار دہائیاں گزاریں، کیریئر بنایا اور اپنے بچوں کی تربیت کی، میری اہلیہ نے میری کامیابیوں اور خاندانی ذمہ داریوں میں میرا بھرپور ساتھ دیا، جس کی بدولت میری بڑی بیٹی امریکہ میں مقیم ہے، بیٹے نے جرمنی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی پاکستان میں ڈاکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے دنیا کے مختلف ممالک بشمول امریکہ کا سفر کیا مگر یو اے ای میں اپنی گہری وابستگی اور یادوں کی بنا پر اسی کو اپنی مستقل رہائش کے لیے منتخب کیا ہے، راس الخیمہ پولیس میں منیر حسین کی انتھک محنت اور شاندار کارکردگی پر انہیں 10، 20 اور 30 سالہ خدمات کے شناختی سرٹیفکیٹس کے علاوہ گولڈن جوبلی سرٹیفکیٹ اور یونین سروس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، ان کے یادگار لمحات میں ایکسپو 2020ء کے دوران خدمات کی انجام دہی اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے رمضان المبارک میں دو بار عمرہ کی سعادت حاصل کرنا شامل ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ اپنی ملازمت کے آخری دن ڈائریکٹر جنرل آف ریسورسز اینڈ سپورٹ سروسز برگیڈیئر جنرل محمد عبید الخاطری نے انہیں یادگاری شیلڈ سے نوازا، جبکہ منیر حسین نے پولیس کی اعلیٰ قیادت بشمول کمانڈر ان چیف میجر جنرل علی عبداللہ بن علوان النعیمی کا شکریہ ادا کیا، ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے پاکستان واپس لوٹنے کی بجائے راس الخیمہ میں ہی قیام پذیر رہ کر اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے اور اماراتی معاشرے کی خدمت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
