اسلام آباد: سعودی عرب میں حالیہ حملوں کے بعد پاکستان نے مکہ میں ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس وقت معاہدے کے تحت کسی فوجی کارروائی پر بات چیت نہیں ہو رہی، تاہم پاکستان معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے۔
حالیہ دنوں میں یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور توانائی سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور سعودی عرب کی سلامتی ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کے خلاف حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے اور سفارتی کوششوں پر زور دیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں فوری طور پر کسی فوجی اقدام پر غور نہیں کیا جا رہا، تاہم ضرورت پڑنے پر معاہدے کے تحت اقدامات کیے جائیں گے۔
مکہ میں گزشتہ ماہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے میں اس اصول پر اتفاق کیا گیا تھا کہ کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم ہے۔ آنے والے دنوں میں سفارتی رابطے اور خطے کے ممالک کا ردعمل صورتحال کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
