رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے۔ عائشہ کی گاڑی سنسان سڑک پر اچانک خراب ہو گئی۔ موبائل کی بیٹری صرف 7 فیصد تھی اور اردگرد دور تک کوئی آبادی نظر نہیں آ رہی تھی۔
کچھ دیر بعد اسے سڑک کے کنارے ایک پرانا مکان دکھائی دیا۔ اندر روشنی جل رہی تھی۔
اس نے ہمت کر کے دروازہ کھٹکھٹایا۔
ایک پچاس سالہ آدمی نے دروازہ کھولا۔
“بیٹی، اندر آ جاؤ۔ رات بہت خراب ہے۔”
عائشہ نے گھر کے اندر جھانکا۔ صحن کے علاوہ دو کمرے تھے۔ گھر غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔
اس نے پوچھا، “گھر میں اور کون ہے؟”
آدمی نے جواب دیا، “میری بوڑھی والدہ۔”
عائشہ اندر داخل تو ہو گئی، مگر دروازے کے قریب ہی کھڑی رہی۔
اچانک اندر والے کمرے سے کوئی چیز گرنے کی آواز آئی۔
آدمی فوراً اندر چلا گیا۔
اسی لمحے عائشہ کی نظر باہر کھڑی موٹر سائیکل پر پڑی۔
اس پر **دو ہیلمٹ** لٹک رہے تھے۔
اس کے دل میں خطرے کی گھنٹی بجی۔
وہ فوراً بولی، “میرے بھائی مجھے لینے آ رہے ہیں۔ میں باہر انتظار کر لیتی ہوں۔”
آدمی نے چونک کر پوچھا، “آپ کے بھائی؟”
“جی، انہیں میری لوکیشن معلوم ہے۔”
یہ جھوٹ تھا۔
اس کا کوئی بھائی وہاں نہیں آ رہا تھا۔
عائشہ کا موبائل اچانک بند ہو گیا۔
اب اس کے پاس کسی سے رابطہ کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔
چند لمحے بعد اندر سے ایک مردانہ آواز سنائی دی۔
وہ آواز اس آدمی کی نہیں تھی۔
عائشہ کا خوف یقین میں بدلنے لگا۔
دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے کہا، “مجھے جانا ہوگا۔”
آدمی دروازے کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔
“اتنی رات کو کہاں جائیں گی؟”
عائشہ نے خود کو پرسکون رکھا۔
“میرے گھر والوں کو معلوم ہے کہ میں یہاں ہوں۔ اگر میں واپس نہ پہنچی تو وہ پولیس کے ساتھ مجھے تلاش کرنے آئیں گے۔”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
پھر اندر والا نوجوان باہر آیا۔
عائشہ نے اسے پہلی بار دیکھا۔
اس کے ہاتھ میں موبائل تھا۔
نوجوان نے پوچھا، “آپ کا فون بند ہے؟”
عائشہ نے جواب دینے کے بجائے کہا:
“بس مجھے مین روڈ تک چھوڑ دیں۔ وہاں میرے گھر والے انتظار کر رہے ہیں۔”
دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
عائشہ سمجھ گئی کہ اسے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
اس نے قدرے بلند آواز میں کہا:
“ویسے میرے گھر والوں کے پاس اس گاڑی کا نمبر، ڈرائیور کا نمبر اور اس جگہ کی لوکیشن سب موجود ہے۔”
یہ بات مکمل سچ نہیں تھی۔
لیکن سامنے والوں کو یہ معلوم نہیں تھا۔
اچانک باہر سے گاڑی کا ہارن بجا۔
ایک بار۔
پھر دوسری بار۔
دونوں آدمی چونک گئے۔
باہر سے آواز آئی:
“عائشہ بی بی!”
عائشہ نے فوراً دروازہ نہیں کھولا۔
“آپ کون ہیں؟”
جواب میں وہی نام بتایا گیا جو اس کی خالہ نے واپسی کے لیے ڈرائیور کو دیا تھا۔
عائشہ نے دروازہ کھولا۔
باہر گاڑی کھڑی تھی۔
وہ فوراً گاڑی میں نہیں بیٹھی۔ پہلے اس نے دور کھڑے دونوں لوگوں سے مزید سوال کیے۔
جوابات درست تھے۔
تب وہ گاڑی میں بیٹھی۔
کئی منٹ تک کسی نے کچھ نہیں کہا۔
پھر ڈرائیور نے پوچھا، “آپ بہت ڈری ہوئی تھیں؟”
عائشہ نے کھڑکی سے باہر اندھیرے کو دیکھتے ہوئے کہا:
“ہاں، لیکن میں نے انہیں یہ محسوس نہیں ہونے دیا۔”
اگلے دن پولیس کو اس مکان کے بارے میں اطلاع دی گئی۔ مکمل تفتیش کے بعد ہی وہاں موجود افراد کے بارے میں حتمی بات سامنے آ سکتی تھی، مگر عائشہ کے لیے اس رات کا سب سے بڑا سبق واضح تھا۔
وہ کہتی تھی:
“خطرے کے وقت سب سے پہلے اپنے خوف کو قابو کرنا چاہیے۔ کیونکہ بعض اوقات انسان کے پاس بچنے کے لیے طاقت نہیں ہوتی، صرف اس کی سمجھ داری ہوتی ہے۔”
اور اس رات عائشہ نے اپنی عزت اور اپنی جان دونوں **اپنی حاضر دماغی سے محفوظ کی تھیں۔**
