کبھی کبھی انسان اپنی زندگی میں صرف ایک معمولی سا فیصلہ کرتا ہے، مگر بعد میں اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ معمولی نہیں تھا۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
یہ کئی سال پہلے کی بات ہے۔ ایک رات کسی کام کے سلسلے میں شہر کے اُس حصے سے گزرنا پڑا جہاں
شام ڈھلتے ہی گلیوں کا رنگ بدل جاتا تھا۔ روشنیوں سے سجی تنگ گلیاں، پرانی عمارتیں، بند دروازوں کے پیچھے چھپی کہانیاں اور ہر چہرے پر ایک عجیب سی خاموشی…
مجھے کیا معلوم تھا کہ اس رات میں صرف ایک علاقے سے نہیں گزر رہا، بلکہ ایک ایسے راز کے قریب پہنچ رہا ہوں جسے مجھ سے پہلے جانے کتنے لوگ چھپانے کی کوشش کر چکے تھے۔
میں نے گاڑی ایک طرف کھڑی کی اور پیدل چلنے لگا۔
گلی کے آخری سرے پر ایک پرانی حویلی نما عمارت تھی۔ باقی عمارتوں کے برعکس وہاں نہ کوئی روشن بلب تھا، نہ موسیقی کی آواز، نہ لوگوں کی آمدورفت۔
بس ایک زنگ آلود دروازہ تھا۔
اور دروازے پر ایک چھوٹا سا کاغذ چپکا ہوا تھا۔
اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:
“آج رات یہاں مت آنا۔”
میں چند لمحے وہ تحریر دیکھتا رہا۔ دل نے کہا واپس چلا جاؤں، مگر تجسس نے قدم روک لیے۔
میں ابھی دروازے کے قریب ہی پہنچا تھا کہ اندر سے کسی عورت کے رونے کی آواز سنائی دی۔
آواز بہت دھیمی تھی، جیسے کوئی جان بوجھ کر اپنی سسکیاں چھپا رہا ہو۔
میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
اندر اچانک مکمل خاموشی چھا گئی۔
پھر کچھ دیر بعد ایک بوڑھی عورت نے دروازہ کھولا۔
اس نے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا اور فوراً بولی:
“تمہیں کس نے بھیجا ہے؟”
میں نے کہا، “کسی نے نہیں۔ میں بس یہاں سے گزر رہا تھا۔”
اس کا چہرہ اچانک زرد پڑ گیا۔
وہ چند لمحے مجھے دیکھتی رہی، پھر آہستہ سے بولی:
“تو پھر تم فوراً یہاں سے چلے جاؤ۔”
میں نے پوچھا، “کیوں؟”
اس نے دروازہ بند کرنے کی کوشش کی، لیکن اسی لمحے اندر سے ایک نوجوان لڑکی کی آواز آئی:
“انہیں اندر آنے دیں… شاید یہی وہ شخص ہیں جس کا ہمیں انتظار تھا۔”
میرے قدم جیسے زمین میں جم گئے۔
وہ مجھے کیسے جانتی تھی؟
میں نے بوڑھی عورت کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر خوف صاف نظر آ رہا تھا۔
آخرکار اس نے دروازہ کھول دیا۔
میں اندر داخل ہوا۔
حویلی کے اندر باہر سے بالکل مختلف ماحول تھا۔ ایک لمبی راہداری، دیواروں پر پرانی تصویریں اور آخر میں ایک کمرہ جس کا دروازہ اندر سے بند تھا۔
وہی لڑکی دروازے کے پیچھے کھڑی تھی۔
اس نے مجھے دیکھتے ہی ایک سوال کیا:
“کیا آپ کو اپنا نام معلوم ہے؟”
میں حیران رہ گیا۔
میں نے کہا:
“یہ کیسا سوال ہے؟”
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر بولی:
“کیونکہ جس شخص کا نام آپ بتائیں گے… وہی اس پورے راز کی آخری کڑی ہے۔”
میرے ذہن میں عجیب و غریب سوالات اٹھنے لگے۔
میں نے اپنا نام بتایا۔
لڑکی نے آنکھیں بند کر لیں۔
پھر اس نے میز کی ایک دراز کھولی اور ایک پرانی تصویر میرے سامنے رکھ دی۔
تصویر دیکھتے ہی میرے ہاتھ کانپنے لگے۔
وہ تصویر تقریباً بیس سال پرانی تھی۔
اس میں پانچ لوگ کھڑے تھے۔
چار چہرے میرے لیے اجنبی تھے۔
لیکن پانچواں شخص…
میں اسے پہچانتا تھا۔
وہ میرے اپنے والد تھے۔
اور تصویر کے پیچھے میرے والد کی اپنی لکھائی میں صرف ایک جملہ درج تھا:
“اگر کبھی میرا بیٹا یہاں تک پہنچ جائے، تو اسے سچ ضرور بتانا۔”
میرے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔
میں نے لڑکی سے پوچھا:
“میرے والد یہاں کیا کر رہے تھے؟”
وہ خاموش رہی۔
پھر اس نے ایک پرانا صندوق کھولا۔
صندوق کے اندر کئی خطوط، کچھ تصاویر اور ایک چھوٹی سی چابی رکھی تھی۔
اس نے چابی میری ہتھیلی پر رکھتے ہوئے کہا:
“یہ چابی آپ کے والد نے ہمیں دی تھی… اور کہا تھا کہ یہ صرف ان کے بیٹے کو دی جائے۔”
میں نے پوچھا:
“صندوق میں کیا ہے؟”
لڑکی نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا:
“وہ حقیقت… جس کی وجہ سے آپ کے والد نے ساری زندگی اس جگہ کا نام تک نہیں لیا۔”
میں نے کانپتے ہاتھوں سے صندوق کھولا۔
اوپر صرف ایک لفافہ رکھا تھا۔
لفافے پر میرا نام لکھا تھا۔
میں نے اسے کھولا۔
اندر میرے والد کا خط تھا۔
خط کی پہلی سطر پڑھتے ہی میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی:
“بیٹا، اگر تم یہ خط پڑھ رہے ہو تو سمجھ لو کہ وہ راز جسے میں نے ساری زندگی دفن رکھا، اب تم تک پہنچ چکا ہے…”
اور اس کے بعد جو کچھ لکھا تھا، اس نے میرے سامنے میرے والد کی پوری زندگی کی ایک ایسی حقیقت کھول دی جس کا مجھے کبھی گمان بھی نہیں تھا۔
مگر سب سے خوفناک بات خط کے آخر میں لکھی ہوئی تھی۔
وہاں صرف ایک جملہ تھا:
“اور یاد رکھنا… جس لڑکی نے تمہیں یہ خط دیا ہے، وہ وہ نہیں ہے جس کا تم خیال کر رہے ہو۔”
میں نے فوراً سر اٹھایا۔
کمرے میں وہ لڑکی موجود نہیں تھی۔
دروازہ کھلا ہوا تھا۔
راہداری خالی تھی۔
اور باہر…
وہ بوڑھی عورت بھی غائب ہو چکی تھی۔
میں نے گھبرا کر حویلی کے دروازے کی طرف دیکھا۔
دروازہ اندر سے بند تھا۔
اسی لمحے میرے پیچھے کسی نے بہت دھیمی آواز میں کہا:
“آپ کو یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا…”
میں نے پلٹ کر دیکھا۔
اور جو چہرہ میرے سامنے تھا…
وہ تصویر میں موجود پانچویں شخص کا چہرہ تھا۔
میرے والد کا چہرہ۔
حالانکہ میرے والد کو اس دنیا سے گئے ہوئے سات سال ہو چکے تھے۔
اور پھر اس شخص نے جو بات کہی، اس نے میری پوری دنیا بدل دی:
“تمہارے والد مرے نہیں تھے… انہیں خاموش کرایا گیا تھا۔”
