ایک بادشاہ نے اپنے دربار میں اعلان کیا:
“مجھے دنیا کا سب سے قیمتی خزانہ، سب سے طاقتور انسان اور سب سے اہم وقت بتانے والے کو انعام دیا جائے گا۔”
دربار میں بڑے بڑے عالم اور دانشور آئے۔ کسی نے دولت کو سب سے قیمتی خزانہ کہا، کسی نے بادشاہ کو طاقتور قرار دیا اور کسی نے مستقبل کو سب سے اہم وقت بتایا۔
آخر میں ایک بوڑھا درویش بادشاہ کے سامنے آیا۔
بادشاہ نے پوچھا، “بتاؤ، سب سے قیمتی خزانہ کیا ہے؟”
درویش نے جواب دیا:
“آپ کے پاس جو وقت اس لمحے موجود ہے، وہی سب سے قیمتی خزانہ ہے۔”
بادشاہ نے پھر پوچھا، “سب سے طاقتور انسان کون ہے؟”
درویش مسکرایا اور بولا:
“وہ شخص جو غصے کے وقت خود پر قابو رکھ سکے۔”
بادشاہ نے آخری سوال کیا، “اور سب سے اہم وقت کون سا ہے؟”
درویش نے کہا:
“یہی لمحہ، کیونکہ گزر جانے والا وقت واپس نہیں آتا۔”
بادشاہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا:
“آج مجھے خزانہ بھی مل گیا اور زندگی کا سب سے بڑا سبق بھی۔”
🌿 سبق:
ماضی گزر چکا ہے، مستقبل ہمارے اختیار میں نہیں؛ ہمارے پاس حقیقت میں صرف موجودہ لمحہ ہے
