سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں مالی معاملات سے متعلق شکایات سامنے آنے پر وائس چانسلر انجینئر الطاف سیال کی جانب سے یونیورسٹی کے اندر ایک کمیٹی تشکیل دے کر معاملے کی تحقیقات کرائی گئیں، جس کے بعد ہنگامی بنیادوں پر سنڈیکیٹ کا اجلاس طلب کیا گیا۔ اجلاس کے دوران یونیورسٹی کے مالی معاملات میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے۔
سنڈیکیٹ رکن میر اللہ بخش ٹالپر کے مطابق اجلاس کے دوران مبینہ طور پر سات کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا اعتراف کیا گیا، جبکہ یونیورسٹی کے سیلری اکاؤنٹ سے ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں مختلف دیگر اکاؤنٹس میں لاکھوں روپے اضافی منتقل کیے جانے کا بھی اعتراف سامنے آیا۔میر اللہ بخش ٹالپر کا کہنا تھا کہ سات کروڑ روپے کی رقم بھی حتمی نہیں، مالی بے ضابطگیوں کی مجموعی رقم اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، اس لیے معاملے کی جامع، شفاف اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کا 2015ء سے اب تک مکمل مالی ریکارڈ نیب سے چیک کرایا جائے اور صرف نچلی سطح کے دو ملازمین کو معطل کرنے کے بجائے ان تمام افسران اور متعلقہ حکام کے کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں، جن کی منظوری یا علم کے بغیر اتنی بڑی رقم کی مبینہ منتقلی ممکن نہیں ہو سکتی
۔
سنڈیکیٹ رکن میر اللہ بخش ٹالپر نے مزید الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے اصل ذمہ داروں کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہی ہے، اس لیے معاملے کو صرف محدود سطح تک رکھنے کے بجائے مکمل اور شفاف تحقیقات کرائی جانی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے یونیورسٹی کے لیے زمین اس مقصد کے تحت وقف نہیں کی تھی کہ یہاں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں ہوں اور غریب ریٹائرڈ ملازمین اپنی پنشن کے لیے پریشان ہوتے رہیں۔دوسری جانب یونیورسٹی ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے معاملے پر تفصیلی موقف دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ سنڈیکیٹ اجلاس کے منٹس ابھی جاری نہیں ہوئے، اس لیے فی الحال اس حوالے سے کوئی موقف نہیں دیا جا سکتا۔
