اسلام آباد: پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد کاروباری اور عوامی حلقوں میں اس کے ممکنہ اثرات پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 5.02 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5.28 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ نئی قیمتیں پانچویں مسلسل نظرثانی کے بعد سامنے آئی ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا اثر صرف گاڑیوں کے ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹرانسپورٹ، مال برداری اور مختلف اشیا کی لاگت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاروباری حلقے بار بار ہونے والے اضافوں کو کاروباری سرگرمیوں کے لیے تشویش کا باعث قرار دے رہے ہیں۔
تاجروں اور کاروباری افراد کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے سے سامان کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں کاروبار کی مجموعی لاگت میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال میں چھوٹے کاروبار خصوصاً قیمتوں کے دباؤ کو زیادہ محسوس کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی تیل کی قیمتیں حالیہ دنوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں۔ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے خدشات کو بھی بڑھا رہا ہے۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ پٹرولیم قیمتوں میں موجودہ اضافہ آنے والے دنوں میں اشیائے ضروریہ، ٹرانسپورٹ اور کاروباری اخراجات پر کتنا اثر ڈالتا ہے۔
آپ کے خیال میں پٹرول کی قیمت میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر کس شعبے پر پڑے گا؟
