اس کے بعد رستہ بھر بچے ہم سے سکول کی باتیں کرتے رہے، لیکن ہمارا ذہن اسی میں اُلجھا رہا کہ اب اگلے تین دن پٹرول سے ”خود سوزی“ کرنا ہو گی۔صاحب!! اوروں کا تو پتہ نہیں لیکن اپنی زندگی تو اسی قسم کے ”بھل بھلیکھوں“ کی ایک سیریز لگتی ہے۔پچھلے ہفتے کی بات ہے کہ ہم بل جمع کروانے بینک پہنچے تو کھڑکی کے سامنے ایک لمبی قطار کو موجود پایا۔
سوچا واپس چلے جائیں لیکن پھر یاد آیا کہ بل چونکہ ہم، حسبِ عادت، آخری تاریخ کو جمع کروانے آئے ہیں لہٰذا واپس جانے اور پھر کل آنے کا ”آپشن“ بھی موجود نہیں۔ہم بادلِ نخواستہ قطار کے آخر میں کھڑے ہو گئے۔کوئی گھنٹہ بھر میں ہمیں کیشیئر کی شکل نظر آئی۔اس دوران ایک صاحب کے قطار کے بیچ میں گھسنے پر جن دو تین حضرات نے اُس کی کلاس لی اُن میں ہم بھی شامل تھے۔
ہم نے بھی اُسے بتایا تھا کہ میاں ہمیں قطار بنانا آ جاتا تو ہم ترقی نہ کر جاتے، اور یہ کہ ہم سے بھلی تو چیونٹیاں ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔قطار آگے رینگتی رہی اور جب آگے صرف دو تین لوگ رہ گئے تو ہم نے بل نکالنے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا۔لیکن ہمارا ہاتھ خالی باہر آ گیا۔بل جیب میں نہیں تھا۔ہمارا رنگ فق ہو گیا۔”تو گویا بل ہم گھر ہی بھول آئے تھے“۔
آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایسے میں قطار چھوڑنا کس قدر اذیت ناک ہو سکتا ہے۔بہر طور! ہم وہاں سے نکلے، اور کچھ ہم ہی جانتے ہیں کہ کس دل سے نکلے! کبھی آپ نے کسی شخص کو آخری رکعت میں اسقاطِ وضو پر صف چھوڑتے دیکھا ہو تو آپ کو ہماری کیفیت سمجھ آئے!! اب کہ ہمارا سر ”بجوں“ سے زیادہ کا مستحق تھا، لہٰذا باہر نکلتے ہوئے گارڈز سے نظریں بچا کر ہم نے بینک کی عمارت کے ساتھ دو چار ٹکریں ماریں اور گھر بل لینے بھاگے۔
واپسی پر دیکھا کہ قطار پہلے سے بھی ڈبل ہو چکی تھی۔ہم نے کھڑکی کے پاس جس جگہ سے قطار چھوڑی تھی وہیں گھسنے کی کوشش کی تو یک دم کئی آوازیں اُٹھیں!! جن صاحب کی ہم نے تھوڑی دیر پہلے کلاس لی تھی وہ ساتھ ہی کھڑے تھے وہ آگے آئے اور ہمارے کندھے سے پکڑ کر کہنے لگے، ”بھٹی صاحب! چیونٹی بنیں، انسان نہ بنیں، پیچھے قطار میں آئیں۔“ اب ہم کیا کہتے!! ایسے بدتمیز لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں، لہٰذا ہم خاموشی سے پیچھے کھڑے ہو گئے۔
یوں یہ بھلکڑ پن تو اپنا ہم زاد بن چکا ہے! روز اک نئی صورتحال کا سامنا رہتا ہے۔لیکن ایک دفعہ تو حد ہی ہو گئی تھی!! کچھ عرصہ پہلے ہمارے ایک بزرگ گاؤں سے تشریف لائے ہوئے تھے۔دوپہر کے کھانے کے بعد وہ مجھے گولیوں کا خالی پتا دے کر کہنے لگے کہ بیٹا یہ دوائی تو لا دو۔میں نکلنے لگا تو کہنے لگے، ”دوائی چالیس روپے کی آئے گی، مہنگی نہ لے آنا“۔
ہم نے بائیک پکڑی اور دوائی لینے چلے گئے۔قریب کے کسی سٹور پر وہ دوائی موجود نہ تھی۔کافی تگ و دو کے بعد شہر کی دوسری جانب ایک سٹور سے دوائی دستیاب ہوئی۔ہم نے اُس کے پیسے پوچھے تو سٹور والا کہنے لگا، ”پینتالیس روپے۔بابا جی نے چونکہ متذکرہ دوائی کی قیمت چالیس روپے بتائی تھی لہٰذا یہ قیمت سُن کر ہم طیش میں آ گئے۔اور دکاندار کو بڑے جوشیلے لیکن جامع اور تحقیقی انداز میں سمجھانے لگے!! ہم نے اسلامی تاریخ، میر جعفر و میر صادق، تحریکِ علی گڑھ، دو قومی نظریہ اور قرار دادِ پاکستان پر روشنی ڈالتے ہوئے دکاندار پر واضع کیا کہ پاکستان کی موجودہ زبوں حالی کا سبب اُس جیسے لوگ ہی ہیں۔
لیکن جیسے ہی ہم نے اُس سے یہ پوچھا کہ کیا اُسے معلوم ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ کے ذمہ دار کون سے لوگ ہیں تو وہ گھبرا گیا اور دوائی لفافے میں ڈال کر ہمارے آگے رکھتے ہوئے کہنے لگا، ”بھٹی صاحب!! میں ان فضول الزامات پر تو کچھ نہیں کہوں گا البتہ اس سے پہلے کہ میرے اوپر قتل کا ایک جینوئن، الزام لگ جائے، آپ اس دوائی کے چالیس روپے ہی دے دیں اور چلتے بنیں“۔
اس پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ہمارے چہرے پے کھل گئی، ہم نے جلدی سے چالیس روپے اُسے تھمائے اور وہاں سے نکل آئے۔واپسی پر موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ہم بے حد مسرور تھے اور رستہ بھر ہم نے خود کلامی کے انداز میں اپنا وہ ”لیکچر“ مکمل کیا جسے وہ دکاندار سننے کی تاب نہ لا سکا تھا۔گھر پہنچے تو بزرگوار محترم ہاتھ میں پانی کا گلاس پکڑے اُس دوائی کا انتظار کر رہے تھے جو ہم لا رہے تھے۔
ہم نے انہیں بتایا کہ دوائی بہت دور سے ملی ہے نیز یہ کہ ہم نے دکاندار کو خوب سبق سکھایا ہے۔یہ کہہ کر ہم نے دوائی نکالنے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ہمارے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے!! جیب خالی تھی! یک دم خیال آیا کہ دوائی تو ہم نے دکان سے اُٹھائی ہی نہیں تھی۔اُس دن معلوم ہوا کہ پاؤں تلے زمیں نکلنا کیا ہوتا ہے۔آدھ گھنٹہ بعد دوبارہ اس دکان پر پہنچے تو دیکھا دوائی ادھر ہی پڑی تھی۔دوائی اُٹھا کر نکلنے لگے تو دکاندار ایک واہیات سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا، ”بھئی! یہ تو بتاتے جائیے کہ سقوطِ ڈھاکہ کے ذمہ دار کون لوگ تھے“۔ ایسے موقعوں پر چونکہ ہم ایسے بدلحاظوں کے منہ نہیں لگتے لہٰذا خاموشی سے نکل آئے۔
