پٹرول مہنگا نہیں ہوا، بس ہماری گاڑی غریب ہو گئی
!ہے
پٹرول کی قیمتیں دیکھ کر اب مجھے لگتا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ محنت کرنے والی چیز ہماری گاڑی نہیں، بلکہ پٹرول کی قیمت ہے۔ وہ روزانہ اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے کہ موٹر سائیکل والا
پیچھے بیٹھ کر سوچتا ہے کہ بھائی میں دفتر جاؤں یا پٹرول کو ہی سلام کرنے پمپ تک جاؤں؟
پٹرول کی موجودہ قیمت تقریباً 389 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی اب اگر کوئی بندہ پٹرول پمپ پر جا کر کہہ دے کہ “بھائی سو روپے کا پٹرول ڈال دو” تو پمپ والا شاید پہلے اسے غور سے دیکھے گا، پھر پوچھے گا: “آپ پٹرول مانگ رہے ہیں یا صرف یادیں تازہ کرنے آئے ہیں؟”
پہلے زمانے میں آدمی پٹرول ڈلواتا تھا اور دل خوش ہوتا تھا کہ گاڑی کا ٹینک بھر گیا۔ اب پٹرول ڈلواتے
ہوئے دل کہتا ہے: “یا اللہ! گاڑی کا ٹینک بھر رہا ہے یا میری جمع پونجی خالی ہو رہی ہے؟”
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت بڑھتے ہی ہر چیز کو پر لگ جاتے ہیں۔ سبزی والا کہتا ہے پٹرول مہنگا ہے، دودھ والا کہتا ہے پٹرول مہنگا ہے، رکشے والا کہتا ہے پٹرول مہنگا ہے، ٹرانسپورٹر کہتا ہے پٹرول مہنگا ہے۔
اور عوام؟
عوام کہتی ہے: “بھائی ہم بھی مہنگے ہو گئے ہیں، ہماری تنخواہ بھی تو وہی ہے!”
اب حالت یہ ہے کہ آدمی گھر سے نکلنے سے پہلے پورا حساب لگاتا ہے۔ دفتر جانا ہے تو سوچتا ہے پٹرول کتنا لگے گا؟ بازار جانا ہے تو سوچتا ہے پٹرول کتنا لگے گا؟ کسی رشتہ دار کے گھر جانا ہو تو دل کہتا ہے فون پر ہی دعا سلام کر لو، پٹرول بچاؤ اور رشتہ بھی قائم رکھو۔
موٹر سائیکل والے کی تو الگ ہی داستان ہے۔ پہلے وہ موٹر سائیکل پر دو دوستوں کو بٹھا لیتا تھا۔ اب ایک دوست بیٹھ جائے تو دوسرا کہتا ہے:
“بھائی میں پیدل آ جاؤں گا، تمہارا پٹرول کیوں ضائع کرواؤں؟”
اور رکشے والے سے کرایہ پوچھو تو وہ بھی شاید دل میں حساب لگا رہا ہوتا ہے کہ مسافر کو منزل تک پہنچاؤں یا پہلے پٹرول پمپ تک لے جاؤں۔
حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان بھی کیا ہے، مگر عام آدمی کا مسئلہ بڑا سادہ ہے: اسے تقریر نہیں، پٹرول چاہیے؛ اور وہ بھی ایسی قیمت پر جسے دیکھ کر دل نہ بیٹھ جائے۔ حکومت نے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے فیول ریلیف اسکیم بھی متعارف کرائی ہے۔
لیکن پاکستانی عوام بھی کمال کی مخلوق ہے۔
ہم نے مہنگائی کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔
پٹرول مہنگا ہو تو موٹر سائیکل آہستہ چلاتے ہیں۔ بجلی مہنگی ہو تو پنکھا کم چلاتے ہیں۔ آٹا مہنگا ہو تو روٹی پتلی کر لیتے ہیں۔ سبزی مہنگی ہو تو سالن میں آلو ڈال دیتے ہیں۔
بس ایک چیز ابھی تک ہماری پہنچ سے باہر ہے:
مہنگائی کو سمجھانا کہ بھائی ذرا آہستہ چل!
اب تو پٹرول پمپ پر جاتے ہوئے دل چاہتا ہے کہ پٹرول ڈلوانے سے پہلے پمپ والے سے کہیں:
“بھائی پہلے ریٹ بتا دو، اگر دل نے اجازت دی تو ٹینک بھروا لیں گے، ورنہ صرف ہوا چیک کروا کے واپس چلے جائیں گے۔”
اور شاید وہ دن بھی دور نہیں جب پاکستانی باپ اپنے بیٹے سے کہے گا:
“بیٹا موٹر سائیکل کی چابی لے جاؤ۔”
بیٹا خوش ہو کر پوچھے گا:
“ابو کہاں جانا ہے؟”
باپ جواب دے گا:
“کہیں نہیں… بس اسے صحن میں کھڑا کر دو، باہر لے جانے کے پیسے نہیں ہیں!”
یہ ہے پٹرول کی قیمت کا نیا فلسفہ: گاڑی گھر میں، چابی جیب میں، اور سفر صرف خوابوں میں!
